12 جنوری 2012 - 20:30

کریم المحروس: منگل 10 جنوری 2012 کو اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا درحقیقت بحرین میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ تھا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے سیاستدان و قلمکار کریم المحروس نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت عوامی مطالبات کا جواب نہیں دے رہی ہے چنانچہ ہزاروں بحرینیوں نے 10 جنوری کو اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دے کر ملک کے سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنے جیسے بعض دھرنے در حقیقت عوامی مطالبات کو دنیا والوں تک پہنچانے کے لئے علامتی اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی کارکردگی کو تقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے بحرینی انقلاب کے حوالے سے منفی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور بحرینی عوام کے انقلاب کو توجہ نہیں دے رہے ہیں۔بحرین کے سیاسی راہنما اور قلمکار نے کہا: اقوامی متحدہ کو بخوبی معلوم ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک ایک انقلابی اور سیاسی تحریک ہے جو ملک کے سیاسی نظام کی تبدیلی کے لئے شروع ہوئی ہے۔

........

/110